Books

کور فرمان

یہ اسماعیل کادارے کا ایک مختصر سا ناول ہے جو اُنہوں نے انیس سو چوراسی میں لکھا ، انیس سو اکانوے میں شائع ہوا، اِس کا انگریزی ترجمہ دوہزار پانچ میں شائع ہوا تھا۔۔۔

یہ 19 ویں صدی کی عثمانی سلطنت میں ترتیب دی گئی ہے اور ایک حکومتی فرمان کی کہانی سناتی ہے جس میں ان تمام لوگوں کو اندھا کرنے کا حکم دیا گیا ہے جن پر نظر بد رکھنے کا شبہ ہے۔ یہ ناول آمرانہ حکومتوں کی طرف سے دہشت گردی کے استعمال کے بارے میں ایک تمثیل ہے، اور اسے البانیہ میں کمیونسٹ حکومت کے درپردہ تنقید سے تعبیر کیا گیا ہے، جہاں کادرے نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔

کہانی کا پلاٹ بہت مضبوط ہے ، اِس میں انیسویں صدی کا ماحول دکھایا گیا ہے۔۔۔ سلطان کو محسوس ہوتا ہے کہ اُس کی سلطنت میں جتنے بھی برے واقعات ہو رہے ہیں یہ سب نظرِبد کی وجہ سے ہیں سو نیا قانون بنایا جاتا ہے جس کے مطابق ہر بری نظر رکھنے والے فرد کی آنکھیں نکال لی جائیں گی۔یہ سزا مختلف طریقوں سے دی جاتی تھی۔۔۔۔

یہ ناول Dystopian Fiction کی ایک عمدہ مثال ہے۔۔۔جیسے جارج آرویل کا شاہکار ناول ۱۹۸۴ ہے ۔۔۔۔ناول بہت جلدی میں سمٹ جاتا ہے ، یعنی کل ۹۰ صفحات ہیں۔۔۔ اردو میں اِس کا ترجمہ افضال احمد سید صاحب نے کیا تھا اور اسے ” آج کراچی نے شمارہ 64 ” میں شائع کیا تھا۔۔۔

بلائنڈنگ آرڈر ایک طاقتور اور پریشان کن ناول ہے جو انسانی فطرت کے تاریک پہلو کی ایک سرد جھلک پیش کرتا ہے۔ یہ ایک یاد دہانی ہے کہ مہذب ترین معاشرے بھی جب خوف کی حکمرانی کرتے ہیں تو بڑے ظلم کے قابل ہوتے ہیں۔

اندھا کرنے کا حکم اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح خوف کو لوگوں پر قابو پانے اور ان پر ظلم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ناول دکھاتا ہے کہ یہ خوف کس طرح تشدد، تقسیم اور پاگل پن کا باعث بن سکتا ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حکومت اس خوف کو اپنے اعمال کو درست ثابت کرنے کے لیے کیسے استعمال کر سکتی ہے، چاہے وہ کتنا ہی ظالمانہ یا ناانصافی کیوں نہ ہو۔

ناول کا موضوع آمرانہ حکومتوں کے ذریعے دہشت گردی کا استعمال ہے

کور فرمان کا خاص حصہ یہ تھا :

چشم بد کے مضر اثرات حالیہ دنوں میں زیادہ ہونے لگی ہیں، اور آزارِ چشم کی وجہ سے تباہی پھیلنے کے خطرے کو روکنے کے لئے سلطنت اپنی رعایا کی فلاح اور بہبود ملحوظ رکھتے ہوئے، متعدد اقدامات اٹھانا ضروری گردانتی ہے۔۔

چشم بد کے حامل افراد کو، ماضی کے برعکس، سزائے موت نہیں دی جائے گئی، صرف انہیں مذموم حرکتوں کو پھیلانے سے روکا جائے گا، اور یہ ہدف ان کو آلہ جرم سے محروم کر کے حاصل کیا جائے گا۔۔ چشم بد کے حامل ہر افراد کی آنکھیں ضبط کر لی جائیں گئی۔۔

سلطنت ان اقدامات سے متاثر ہونے والے افراد کو معاوضہ پیش کرے گئی اور جو افراد خود کو حکام کے حوالے کر دیں گئے انہیں زیادہ معاوضہ دیا جائے گا۔۔

جو افراد کسی بھی طرح سے کورفرمان کی مخالف کے مرکب ہوں گئے ان کی آنکھیں جبری طور پر نکال لی جائے گئی اور وہ کسی بھی معاوضے کے مستحق نہیں ہوں گئے۔۔!!